Monday 11 March 2013

(•۝• ѴƲ cℓʋв •۝•) قبولِ اسلام کی داستانیں۔۔۔۔۔۔۔۔4

میں نے اسلام کیسے قبول کیا

 

ڈان فلڈ (راوی، امتیاز احمد)

 
 
ہر سوسائٹی میں کچھ خوبیاں ہوتی ہیں اور کچھ خامیاں بھی، امریکی سوسائٹی کا طرۂ امتیاز یہ رہا ہے کہ ہر فرد اپنی مرضی سے اپنے لیے راہِ عمل اختیار کرسکتا ہے یہاں تک کہ گھریلو زندگی میں بھی اکثر والدین بچوں کی مرضی اور طرزِ حیات میں زیادہ مخل نہیں ہوتے، بلکہ اکثر بچے مذہبی اور ذاتی امور عین اپنی مرضی سے طے کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں گھریلو زندگی میں متضاد نظریات کے باوجود والدین اور بچے ایک دوسرے سے رواداری سے پیش آتے ہیں:
 
١١  ستمبر ٢٠٠١ء کے واقعہ سے قبل تک امریکی سوسائٹی اسی رنگ میں رنگی ہوئی تھی اور ہمارے دوست ڈان صاحب اسی سوسائٹی کی پیداوار ہیں، انہوں نے مجھے اپنی سرگزشت یوں بیان کی:
 
 نئی تہذیب کی جھلکیاں
 
میں امریکہ کے شہر ٹرینٹن، نیو جرسی (Trenton, New Jersy) میں پیدا ہوا، میرے والد صاحب ایک انجینئر تھے، چونکہ امریکی سوسائٹی میں نقل و حرکت بہت زیادہ ہے، ان کا تقرر مختلف شہروں اور ملکوں میں ہوتا رہا۔ مثلاً میں نے ابتدائی تعلیم ریاست انڈیانا (Indiana) میں شروع کی لیکن ہائی اسکول کے دوران مجھے والد صاحب کے ساتھ ایک دوسرے ملک برازیل (Brazil) جانا پڑا۔ میں والدین کے ہمراہ برازیل میں چھ ماہ رہا۔ مجھے وہاں ایک بالکل نئی اور انوکھی تہذیب نظر آئی، وہاں کی زبان بھی مختلف تھی، مجھے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ امریکی طرزِ حیات کے علاوہ زندگی بسر کرنے کے اور بھی طریقے ہیں، اس سے میرے دل و دماغ میں وسعت پیدا ہوئی۔ میں اس نئی زبان اور تہذیب کی مٹھاس سے سرشار ہونا چاہتا تھا، اس لیے میں نے پرتگالی (Portuguese) اور ہسپانوی (Spanish) زبانیں سیکھ لیں، اِس وقت میں پرتگالی زبان تو بھول چکا ہوں البتہ ہسپانوی زبان سے ابھی بھی کام چلا لیتا ہوں۔
 
جب میں والدین کے ہمراہ واپس امریکہ آیا تو میں نے ہائی اسکول کی باقی ماندہ تعلیم انڈیانا ریاست میں ہی مکمل کی، اس کے بعد میں نے ٹیکساس کی یونیورسٹی (University of Texas) میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں داخلہ لیا، تاکہ مستقبل میں ایک اچھی نوکری حاصل کرسکوں۔
 
میرے رجحان میں تبدیلی
 
ایک دن میں اپنے گھر کے صحن میں بیٹھا لاطینی امریکہ (Latin America) کی تہذیب کے بارے میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا، اس کے مطالعہ سے مجھے محسوس ہوا کہ بزنس ایڈمنسٹریشن بہت خشک مضمون ہے، اور لاطینی امریکہ کی تہذیب بہت دلچسپ ہے، اس لیے میں کالج گیا اور بزنس ایڈمنسٹریشن کو خیرباد کہہ کر لاطینی امریکہ سے متعلقہ مضامین چن لیے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ میرے والدین میرے ذاتی معاملات میں کسی قسم کی دخل اندازی نہ کرتے تھے۔ اب میں نے پبلک لائبریری سے کئی اور تہذیبوں مثلاً بدھ مت اور ہندو مت سے متعلقہ کتابیں بھی حاصل کیں تاکہ دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کی سوچ اور طرزِ معاشرت سے مستفید ہوسکوں۔
 
 ایک عجیب واقعہ
 
کالج میں میرا ایک ہندو دوست تھا، اس نے مجھے بتایا کہ آج شام ایک چرچ میں گھریلو پکا ہوا کھانا ہے، اگر میں اس کے ہمراہ اس دعوت پر جاؤں تو وہ میرا تعارف اپنے سعودی دوست سے کروائے گا۔ بطور طالب علم ہم کسی گھریلو کھانے کی دعوت کو نظرانداز نہیں کرتے تھے، پس ہم اس چرچ گئے، اور وہاں ایک سعودی طالب علم سے میرا تعارف کرایا گیا۔ کھانا بہت لذیذ تھا اور ہم نے خوب دل بھر کر کھایا۔ کھانے کے اختتام پر ایک پادری صاحب کھڑے ہوئے، اور بورڈ پر لکھی ہوئی عبارت کو گا گا کر پڑھنے لگے۔ ہمیں بھی اپنے ساتھ دہرانے کو کہا۔ اس پر ہمارا سعودی دوست ابوحسین پھرتی سے کھڑا ہو گیا اور ہمیں اس مجلس کو خیرباد کہنے کا اشارہ کیا۔ ہماری میزبان لڑکی نے کافی کوشش کی کہ ہم رُک جائیں لیکن ابوحسین نے دوٹوک کہا: ہمارا اس مجلس سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا، پس ہم چرچ سے باہر آ گئے اس واقعہ نے ہمیں قریب تر کر دیا یہاں تک کہ ہم نے باہمی طے کیا کہ ہم سب مل کر ایک مکان کرایہ پر لیں گے اور اس میں مل جل کر زندگی بسر کریں گے، چند دنوں بعد ایک ایرانی طالب علم بھی ہمارے ساتھ اس مکان میں رہنے لگا۔
 
اس طرح مجھے کئی تہذیبوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، مجھے دوسرے ملکوں کے کھانے بہت پسند تھے۔ میں نے ان دوستوں سے کھانے پکانے سیکھے، اور انگلیاں چاٹ چاٹ کر کھاتا۔ یہاں دورانِ رہائش میری نظر سے کئی انوکھی چیزیں گزریں، مثلاً میرے ساتھی کھانا ہاتھ سے کھاتے نہ کہ چمچ سے، وہ کھانا کھانے کے لیے زمین پر بیٹھنا پسند کرتے، کھانے کی میز اور کرسیوں پر انہوں نے کبھی بھی کھانا تناول نہ کیا، علاوہ ازیں مجھے یہ سمجھ نہ آتی تھی کہ وہ غسل خانہ جاتے ہوئے پانی سے بھرا برتن کیوں ساتھ لے کر جاتے ہیں؟ بہت بعد میں سمجھ آئی کہ یہ سب اسلامی طریقے ہیں۔
 
میرا مذہب
 
میں اور میرے والدین عیسائی مذہب کے پروٹسٹنٹ فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ میں محض والدین کے احترام کے طور پر ان کے ساتھ چرچ جاتا تھا۔ میرا خیال تھا کہ چرچ سماجی سرگرمیوں کے لیے ہے۔ مذہب میں سب سے اہم چیز اخلاق اور کیریکٹر ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں میرے خیالات بہت الجھے ہوئے تھے، اور میں کسی سے بحث مباحثہ کی جرأت بھی نہ کرتا تھا۔ میرے والدین نے مجھے مذہب کی تعلیمات پر زیادہ کاربند ہونے کے لیے کبھی مجبور نہ کیا، بلکہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا۔
 
میں یہاں یہ اعتراف کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ عیسائی مذہب کے بارے میں میری کم علمی اور کم عملی کا یہ نتیجہ ہوا کہ میرا ذہن دیگر مذاہب کے لیے متعصب نہ بن سکا، اور میں وسعتِ قلبی سے نئے نئے تجربات کا تجزیہ کرتا رہا۔
 
دلکش قدرتی مناظر
 
میں اب تک اپنی زندگی کے اہم ترین مقصد اور مستقبل میں کام کاج کے بارے میں کچھ طے نہ کر پایا تھا، اس لیے میں ایک دوست کے ہمراہ امریکہ اور کینیڈا کی سیر و سیاحت کو نکلا، تاکہ زندگی کی دوڑ دھوپ سے کنارہ کش ہو کر اپنے مستقبل کے بارے میں غور و فکر کر سکوں، امریکہ میں وسیع پارک ہر جگہ موجود ہیں، ہم نے ہوٹلوں کے بجائے انہی پارکوں میں قیام کیا، میں جہاں بھی جاتا دلکش قدرتی مناظر دل موہ لیتے، میں نے سوچا کہ یہ رنگ دار پھول، بلند و بالا درخت اور وسیع و عریض نباتات خود بخود معرضِ وجود میں نہیں آسکتے، یقیناً ان کا کوئی خالق ہے، میرے دل میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ خدا ایک ہے، لیکن مجھے یہ سمجھ میں نہ آتا کہ اس خالق کی کیسے عبادت کروں، اور اس کی کیسے حمد بیان کروں۔
 
بیرونِ ملک کے سفر
 
کالج سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد میرے سب ساتھی اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہو گئے۔ میں نے ابوحسین سے رابطہ قائم رکھا، اس نے مجھے دو ہفتوں کے لیے سعودی عرب آنے کی دعوت دی۔ میں نے اس سفر کی تیاری شروع کر دی۔ مجھے پیرس اور قاہرہ سے ہوتے ہوئے سعودی عرب پہنچنا تھا۔ اس سفر کے دوران میں کئی عجیب و غریب واقعات پیش آئے۔ مثلاً میں نیویارک میں ایک ٹیکسی کے ذریعے ٹریول ایجنٹ کے دفتر جا رہا تھا، ڈرائیور صاحب مصری تھے، انہوں نے جلدی میں اپنی سرگزشت یوں بیان کی: میرا نام طارق ہے، میں یہاں حصولِ تعلیم کے لیے آیا تھا لیکن ناکام رہا، میں اپنے آپ سے بہت شرمندہ ہوں، اور اسی وجہ سے میں نے کئی سال سے والدین سے بھی رابطہ نہیں کیا، آپ چونکہ قاہرہ جا رہے ہیں، میرا یہ خط میرے گھر پہنچا دینا، ممنون ہوں گا۔
 
پس قاہرہ پہنچتے ہی میں ایک ٹیکسی کے ذریعے طارق کے گھر پہنچا، اور میں نے دروازے پر دستک دی۔ ایک بہت بوڑھی عورت نے دروازہ کھولا۔ میں عربی زبان میں بات چیت سے قاصر تھا۔ میں نے خط اس کے حوالے کیا اور طارق طارق کہا۔ اس نے مجھے اندر آنے کی دعوت دی، اور کافی اور بسکٹ پیش کیے۔ اس کے دوسرے لڑکے بھی وہاں موجود تھے، اس عورت نے اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: طارق، یعنی کیا تم نے طارق کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے؟ کیا وہ زندہ ہے؟ میں نے اپنے ہاتھ آنکھوں سے مس کرتے ہوئے اور سر ہلاتے ہوئے کہا: طارق۔ اس بات چیت، مہمان نوازی اور گھر کے اندرونی ماحول نے میرے دل پر بہت گہرا اثر کیا، میں نے اتنے قریب سے ایسی تہذیب کو کبھی پہلے نہیں دیکھا تھا۔
 
سعودی عرب پہنچنے پر بہت گرم جوشی سے میرا استقبال کیا گیا۔ میں نے زیادہ تر وقت ریاض شہر کے قریب ایک گاؤں میں گزارا۔ یہاں مجھے آسمان تلے کھلے میدان میں سونے کا موقع ملا۔ یہاں کا طرزِ معاشرت بالکل مختلف تھا۔ ابوحسین نے چند بکرے ذبح کیے اور پورے گاؤں کے لوگوں کو دعوت دی۔ مجھے ایسی عزت افزائی زندگی بھر دیکھنی نصیب نہ ہوئی تھی، ہماری ایک دوسرے سے محبت بڑھ گئی۔ ایک دن ابوحسین نے اُونٹنی کا دودھ میرے سامنے دوہا اور یہ تازہ دودھ مجھے پینے کو پیش کیا۔ جب میں اس دودھ سے لطف اندوز ہو رہا تھا، ابوحسین کے والد صاحب نے مجھ سے کہا: اگر تم مسلمان ہو جاؤ تو میں تجھے دس اُونٹ بطورِ تحفہ دوں گا۔ میں نے انہیں برجستہ جواب دیا کہ اگر آپ عیسائی بن جائیں تو میں آپ کو دس اُونٹ بطور ِتحفہ پیش کروں گا۔ ایسے ہی نوک جھوک چلتی رہی، بہرحال میں واپس امریکہ آگیا تاکہ اپنی ملازمت کے فرائض کو سرانجام دے سکوں۔

 
 میری پہلی نوکری
 
میں نے کالج سے گریجویشن کے بعد بطورِ ٹیچر کام کرنا شروع کر دیا تھا، میں ان لوگوں کو انگریزی پڑھاتا جن کی مادری زبان انگریزی نہ تھی۔ دراصل یہ پروجیکٹ ابوظبی (Abu Dhabi) اور ٹیکساس یونیورسٹی امریکہ کے باہمی تعاون سے چل رہا تھا۔ میں پہلے چھ ماہ ابوظبی میں قیام کرتا، اور وہاں کے شہریوں کو انگریزی کی تعلیم دیتا، پھر ان شہریوں کو چھ ماہ کے لیے امریکہ لاتا، اور ٹیکساس یونیورسٹی میں مزید تعلیم و تربیت دی جاتی۔ میں ابوظبی میں چند اور امریکی اساتذہ کے ساتھ ایک ہوٹل میں مقیم تھا، اس سے مجھے عرب تہذیب سے اور زیادہ متعارف ہونے کا موقع ملا۔ میں اور دوسرے اساتذہ عرب تہذیب میں گھٹن محسوس کر رہے تھے، کیونکہ یہاں کی بعض اقدار ہماری قدروں سے مختلف تھیں۔
 
میرا روز مرہ کا معمول یہ تھا کہ ہوٹل سے اسکول اور اسکول سے واپس ہوٹل پہنچ جاتا مجھے زندگی بے کیف اور بے مزہ نظر آنے لگی۔ مجھے لہو و لعب کی زندگی کی تلاش تھی تاکہ زندگی لطف اندوز بن جائے۔ میں نے سوچا کہ یہ سب چیزیں امریکہ کے شہر لاس ویگاس (Las Vegas) میں میسر ہیں، پس میں نے بوریا بستر باندھا اور وہاں پہنچ گیا۔
 
دنیاوی لذت کی تلاش
 
لاس ویگاس میں مجھے نوکری نہ مل سکی، میں نے اخبار میں اجنبی باشندوں کو انگریزی پڑھانے کا اشتہار دیا۔ شروع میں دو تین طالب علم ملے، میں ان کو اپنے گھر کے باورچی خانے میں بورڈ آویزاں کر کے تعلیم دیتا، بتدریج طلبا کی تعداد بہت بڑھ گئی کیونکہ اس شہر میں اکثریت اجنبیوں کی ہی ہے، اس سے مجھے یہ بھی واضح ہو گیا کہ میرے لیے انگلش ٹیچر کا کام نہایت مناسب ہے۔
 
میں نے ایک اور دوست کے تعاون سے ایک درس گاہ قائم کر لی اور ہمارا کاروبار دن بدن ترقی کرتا گیا۔ اس آسودگی کی وجہ سے میں دوبارہ جوا، شراب، لڑکیوں سے دوستی اور دیگر ایسی ہی برائیوں میں ملوث ہو گیا۔ لیکن زیادہ وقت نہ گزرنے پایا تھا کہ میں ان خبیث حرکات سے متنفر ہو گیا، کیونکہ ان سے زندگی کو کیف ملنے کی بجائے کوفت ملتی تھی۔ ایک بار پھر مجھے اپنی زندگی کی روش بدلنے کی اشد ضرورت پیش آئی۔ میں نے ابوحسین کو اپنی درخواست بھیجی تاکہ وہ مجھے سعودی عرب میں کام دلوا سکے، خوش قسمتی سے مجھے سعودی عرب کے ایک شہر جبیل (Jubail) میں انگریزی زبان کے مدرس کے طور پر ملازمت مل گئی، اور میں جلد ہی سعودی عرب پہنچ گیا۔
 
توبہ کی طرف سفر
 
ایک دن میں فلسفے کی ایک کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا، اس میں لکھا تھا کہ انسان کو مخلصانہ توبہ کرنی چاہیے، میں نے زندگی میں کبھی توبہ نہیں کی تھی۔ اس موقع پر میں ان سب افراد کے بارے میں سوچنے لگا جن پر میں نے کسی نہ کسی طرح ظلم کیا تھا، اور اسی طرح بارہا اپنی ذات پر بھی ظلم کیا تھا، یعنی میں نے اپنی حرص و ہوا اور ذاتی مفاد کو ترجیح دی تھی اور دوسروں کی عصمت اور حقوق کو پامال کیا تھا۔ میرے دل نے آواز دی کہ میرے لیے توبہ کرنا واجب ہے، پس میں نے اس دن صدقِ دل سے توبہ کی۔
 
کافی عرصہ بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ مخلصانہ توبہ ضرور قبول فرماتے ہیں۔ میری توبہ قبول ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میرے لیے ایسے حالات پیدا کیے اور ایسے ایسے لوگوں سے رابطہ قائم ہوا جو مجھے ہدایت حاصل کرنے میں بے حد مددگار ثابت ہوئے، ایسے چند واقعات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔
 

 
غیرمسلم کا مسجد میں داخلہ
 
ایک بار ابوحسین نے مجھے چند دوستوں کے ہمراہ کھانے کی دعوت دی۔ یہ نماز کا وقت تھا، ہم سب مل کر مسجد چل دیئے، مجھے یہ ہدایت کی گئی کہ تم ہماری طرح وضو کرو اور پھر ہماری ہی طرح نماز ادا کرسکتے ہو۔ میں نماز کے دوران ان کو آنکھ کے ایک کونے سے دیکھتا رہا اور ان کی اتباع کرتا رہا۔ نماز کے بعد میں اپنی جگہ منجمد ہو کر بیٹھ گیا اور انتظار میں تھا کہ اب کیا کرنا ہے؟ میرے دوستوں نے مجھے کہا کہ با جماعت نماز کے بعد میں مسجد کے باہر ان کا انتظار کرسکتا ہوں تاکہ مجھے پہلی بار زیادہ مشکل سے دوچار نہ ہونا پڑے، اس روز مجھے یہ احساس ہوا کہ ایک غیرمسلم بھی مسجد میں دخل ہوسکتا ہے۔
 
اسی طرح ایک بار پھر ایسا ہی معاملہ ہوا، میں ابوحسین کے گھر تھا، سب دوست مل کر گھر میں ہی نماز ادا کرنے والے تھے۔ انہوں نے مجھے رائے دی کہ میں بھی ان کے ساتھ نماز ادا کروں، نماز کے دوران اللہ سے استغفار کروں، اور پھر ہدایت کی دعا مانگوں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کروں۔ اس نماز کے بعد مجھے بے حد ذہنی سکون ملا۔ مجھے ایسا سکون زندگی بھر نصیب نہ ہوا تھا، اس لیے میں ایسے مواقع کی تلاش میں رہتا کہ بحیثیت غیر مسلم ان مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کرسکوں اور بار بار ویسی کیفیت پیدا کرسکوں۔
 
مجھے اسلام کی مٹھاس تو مل چکی تھی، لیکن میں ابھی دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے تیار نہ تھا، اس کی کئی وجوہات تھیں۔ مجھے یہ فکر لاحق تھی کہ میں پرانے دوستوں اور اپنے کنبہ سے کٹ جاؤں گا۔ اس کے علاوہ شراب نوشی، منشیات، جوا بازی اور لڑکیوں سے دوستی کو یک دم خیرباد کہنا ناممکن سا لگ رہا تھا۔ دائرۂ اسلام میں داخل ہونے پر مجھے پورا طرزِ معاشرت بدلنا پڑنا تھا، میں ذہنی طور پر اس کے لیے ابھی تیار نہ تھا۔
 
اسی شہر میں میرا ایک امریکی مسلم دوست بطور انجینئر کام کر رہا تھا۔ اس کا نام علی بشیر تھا۔ ایک دن میں ابوحسین کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کرنے کی غرض سے مسجد گیا، وہاں علی بشیر سے ملاقات ہوئی۔ میں نے علی بشیر سے کہا کہ میں دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کے بالکل قریب ہوں، یوں سمجھ لیں کہ میں ایک کنارے پر بیٹھا ہوں، اگر کوئی مجھے معمولی سا دھکا دے تو میں اسلام میں داخل ہو جاؤں گا۔ علی بشیر نے اس مقصد کے لیے مجھے ایک وڈیو دی، تاکہ میں اس سے مستفید ہو سکوں۔
 
 ایک اہم پکنک
 
جبیل کے مسلمان شہریوں نے ایک پکنک کا انتظام کیا اس میں ہم چھ غیرمسلم بھی مدعو تھے۔ ہم نے دن بھر مختلف کھیلوں میں حصہ لیا، پھر مل جل کر کھانا کھایا، آخر میں ایک مختصر تقریر سنی۔ میں یہ سن کر دنگ رہ گیا کہ مسلمان سب پیغمبروں اور سب الہامی کتابوں کو مانتے ہیں اور یہ ان کے ایمان کا اہم جزو ہے، مجھے کچھ لٹریچر بھی دیا گیا جس میں مختلف مذاہب کا موازنہ درج تھا۔ ان میں سے ایک کتابچہ بہت ہی دلچسپ تھا۔ اس میں ایک مسلمان اور عیسائی کے درمیان بحث و مباحثہ درج تھا۔ اس لٹریچر کے پڑھنے کے بعد میرا ایک خدا پر یقین اور بڑھ گیا، لیکن میری سمجھ سے بالا تھا کہ اس کی عبادت کیسے کروں اور یہ کہ خدا مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ علاوہ ازیں مجھے یہ بھی واضح نہیں تھا کہ مجھے کس رنگ ڈھنگ سے زندگی گزارنی چاہیے۔
 
 دلچسپ ویڈیو
 
ابوحسین صاحب اکثر گھر میں دعوت کا اہتمام کرتے، اس بار بہت بڑا گروپ تھا۔ حسب معمول ہم نے کھانا کھایا، کھانے کے بعد سب نوجوان آپس میں عربی زبان میں باتوں میں مشغول ہو گئے۔ وہاں میں اکیلا ایک بدھو کی طرح بیٹھا تھا۔ اس دوران مجھے اس کمرے میں ایک ٹیلی وژن اور وی سی آر نظر آیا۔ میں اپنی کار سے علی بشیر کی عطا کردہ ویڈیو لے آیا اور اسے دیکھنا شروع کیا، وہ انگریزی زبان میں تھی۔ مہمانوں نے میری طرف کوئی توجہ نہ دی، میں ویڈیو دیکھنے میں ہمہ تن مشغول رہا۔ اس ویڈیو کا عنوان تھا:''تمہاری زندگی کا کیا مقصد ہے، تم اسلام کے بارے میں کیا جانتے ہو؟''جب میں نے یہ عنوان دیکھا تو فی الفور سوچنے لگا کہ آخر میری زندگی کا کیا مقصد ہے؟ مجھے افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اکثر لوگوں کی طرح میں بھی اپنی زندگی کے اصل مقصد سے بے بہرہ تھا۔
 
یہاں یہ ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ ویڈیو ایک امریکی مسلمان جناب خالد یاسین صاحب کا لیکچر تھا جو انہوں نے ١٩٩٠ء میں جدہ کے تبلیغی مرکز میں دیا تھا۔
 
اس ویڈیو سے مجھے تین اہم نکات سمجھ میں آئے:
 
١- زندگی کا مقصد اسلام ہونا چاہیے، یعنی خالقِ حقیقی کی دل و جان سے اطاعت، یہ جواب نہ صرف فصیح و بلیغ تھا، بلکہ پورا مفہوم ایک لفظ اسلام سے ادا ہو جاتا تھا، گویا دریا ایک کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔ اور اتنے مشکل سوال کے جواب کے لیے بہت سی کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
 
٢- لفظ اسلام کا ذکر قرآن پاک میں ہے، باقی ماندہ مذاہب کے نام کا ذکر ان کی کتابوں میں مذکور نہیں
 
٣- اس ویڈیو میں نہایت سادہ مثالوں سے رہبری کی گئی ہے، مثلاً خالد یاسین صاحب یہ کہہ رہے تھے کہ اگر تم عیسائی ہو اور اب اسلام قبول کرنا چاہتے ہو تو یہ ایسے ہی ہے جیسے اگر تمہارے پاس ایک قیمتی سوٹ ہو اور وہ تمہارے جسم پر ٹھیک نہ بیٹھتا ہو تو اسے خواہ مخواہ پھینک نہیں دیتے، بلکہ اس میں کچھ تبدیلیاں کر کے قابلِ استعمال بنا لیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھنا چاہیے کہ تمہیں بچپن کے سب عقائد کو یک دم خیرباد نہیں کہنا چاہیے بلکہ ان میں ضروری تبدیلیاں کرنے کے بعد اسلامی زندگی میں بھی استعمال کرسکتے ہو۔

 
ویڈیو کا مشاہدہ کرنے کے بعد
 
ویڈیو کا مشاہدہ کرنے کے بعد میرے دل کے اُوپر کا پردہ ہٹ گیا۔ مجھ پر حقیقت آشکارا ہو گئی اور میں نے سچائی کو دل و دماغ سے جان اور پہچان لیا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے گناہوں کا انبار میرے جسم سے خارج ہو رہا ہے، اور کسی ہوائی چیز کی طرح دُور اُڑتا چلا جا رہا ہے۔ خصوصاً میرے کندھوں کے گرد سے بوجھ بالکل ہٹ گیا اور مجھے اپنا جسم اتنا ہلکا لگنے لگا گویا میں چھت کی طرف اُڑ رہا ہوں۔
 
قبولِ اسلام کے لیے بے قراری
 
اب میرا دل اسلام کی نعمت سے محروم رہنے کے لیے ایک لمحہ کے لیے بھی تیار نہ تھا۔ میں نے ابوحسین صاحب کو اپنی طرف بلایا اور انہیں اپنے ساتھ کمرے سے باہر لے آیا۔ میں نے ان سے بے قراری سے کہا کہ میں ابھی اور اسی وقت اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ مجھے فی الحال اسلام کے بارے میں مزید مطالعہ کرنا چاہیے۔ لیکن میں نے اصرار کیا کہ میں اب بغیر کسی تاخیر کے ابھی اپنے دل کو نورِ اسلام سے منور کرنا چاہتا ہوں۔ میری اس بے قراری اور اصرار پر ابوحسین صاحب مجھے ایک دوسرے کمرے میں لے گئے، اور میں نے سکون سے وہاں کلمۂ شہادت پڑھا: والحمدللّٰہ علٰی ذٰلک۔
 
اب ابوحسین صاحب نے پورے گروپ میں میرے اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ لوگ حیران رہ گئے اور خوشی سے باری باری بغل گیر ہو گئے۔ مجھے یہ ہدایت کی گئی کہ گھر جا کر غسل کروں اور پھر نمازیں ادا کرنا شروع کر دوں، بفضلِ خدا میں نے اگلے روز صبح سے نمازیں ادا کرنا شروع کر دیں، اور سجدوں میں سرور آنے لگا۔
 
مسلم نام
 
میں دو دن بعد جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے لیے گیا۔ ابوحسین صاحب نے مجھے یہ رائے دی کہ یہاں سب نمازیوں کے سامنے دوبارہ کلمہ پڑھوں۔ میں نے اس رائے سے اتفاق کیا۔ ابوحسین صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون سا مسلم نام پسند کرتے ہو تاکہ امام صاحب اس مسلم نام سے تمہارا تعارف کروا سکیں۔ میں نے جواباً عرض کیا کہ فی الحال مجھے کوئی نام یاد نہیں آیا۔ امام صاحب میرے امریکی نام سے ہی تعارف کروا دیں تو بہتر ہے۔ اس کے بعد ابوحسین صاحب میرے قریب بیٹھے قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول ہو گئے۔ اچانک انہوں نے اپنی کہنی سے میرے جسم کو چھوا اور کہنے لگے کیا تجھے یحییٰ نام پسند ہے؟ میں نے پوچھا: یحییٰ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: John the Baptist یعنی یحییٰ علیہ السلام۔ میں نے کہا کہ John the Baptist کو اپنے پرانے مذہب سے بھی پہچانتا ہوں۔ ابوحسین صاحب نے کہا کہ اس کے دوسرے معنی نئی زندگی کے بھی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ میری ایک نئی زندگی ہے، اس لحاظ سے بھی یہ نام مناسب ہے۔ اس طرح میں نے تعارف سے پہلے ہی یحییٰ نام پسند کر لیا، اور امام صاحب نے جمعہ کی نماز کے بعد میرا اسی نام سے تعارف کروایا۔
 
تقریباً چار سو لوگوں کے سامنے کلمہ پڑھنے کے بعد سب افراد بے حد خوشی اور پیار سے مجھ سے بغل گیر ہوئے۔ بعض لوگ باری باری گلے ملتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ تم نے اپنی زندگی میں یہ سب سے اچھا فیصلہ کیا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ ہر شخص انفرادی طور پر گلے ملے بغیر مسجد سے نہیں جانا چاہتا تھا، اس محبت اور اخلاص سے میرا اسلامی جذبہ اور حوصلہ بہت بلند ہو گیا۔
 
اسلامی تعلیم و تربیت
 
یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میں ایک اسلامی ملک میں مقیم تھا، اس لیے اسلامی تعلیم و تربیت حاصل کرنا بہت آسان تھا۔ میں نے چند اجنبی ممالک کے مسلمانوں کے ہمراہ ہفتہ میں کم از کم ایک دن تعلیم کے لیے مقرر کیا، یہ سلسلہ چار سال تک جاری رہا۔ میں نے عربی، حفظ قرآن اور فقہ وغیرہ سیکھ لیے۔ یہاں یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ میں نے ١٩٨٤ء کے سعودی سفر سے پہلے ہی ایک کتاب سے خود بخود عربی حروف پڑھنا اور لکھنا سیکھ لیا تھا۔ اسی وجہ سے میں نے قران پاک کی تلاوت کرنا بہت جلد سیکھ لی، قرآن پاک کی زبان عربی ہے۔ میرے خیال میں ہر مسلمان کے لیے عربی سیکھنا اور سمجھنا نہایت اہم ہے۔ چند سال کے بعد جب میں مدینہ منورہ منتقل ہوا تو یہاں کے روحانی ماحول نے میرے دل کو اور بھی پاک کر دیا، الحمد للہ!
 
 شادی خانہ آبادی
 
اسلام کی تعلیمات کے مطابق شادی کرنا ضروری ہے، میں نے سوچا کہ میں اپنے بچوں کو سب سے قیمتی تحفہ یہ دوں گا کہ عربی زبان ان کی مادری زبان ہو، اس لیے بہتر یہ ہو گا کہ میں کسی عربی نسل کی لڑکی سے شادی کروں۔ اس سوچ کے تحت میں نے ایک شامی لڑکی سے شادی کی اور اللہ کے فضل سے ہمارے بچوں کو عربی زبان پر خوب عبور ہے۔
 
چھٹیوں کے دوران میں امریکہ گیا، میرے دوست میرا مذاق اُڑانے لگے اور بار بار کہتے کہ تم اس عورت سے کیسے شادی کرسکتے ہو جسے تم ذاتی طور پر پوری طرح سے نہیں جانتے ہو؟ میں نے انہیں وضاحت کے طور پر جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں میاں بیوی کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین کر دیا ہے اور دونوں کا کردار بھی مخصوص ہے۔ یہ سب خالق مطلق کے قوانین ہیں جو کہ انسان کے بنائے ہوئے تمام قوانین سے بدرجہا بہتر و افضل ہیں۔ اگر ہم ان قوانین کی خلوصِ نیت سے پیروی کریں تو میاں بیوی کے تعلقات میں ذرا بھی آنچ نہیں آتی، بلکہ ایک مثالی اور پُرسکون زندگی نصیب ہوتی ہے۔ انہوں نے میری بات سن کر قہقہہ لگایا۔ میں نے امریکی دوستوں پر ان سے بھی بڑھ کر قہقہہ لگایا اور یہ کہا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ تم شادی سے پہلے کئی لڑکیوں سے دوستی لگاتے ہو، تمہارا یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے تم کار خریدنے سے پہلے اسے ٹیسٹ ڈرائیو (test drive) کرتے ہو، یہ سن کر وہ لاجواب ہو گئے۔

 
 والدین کا ردّ عمل
 
میرے اسلام قبول کرنے کی خبر سن کر میرے والدین کو کافی کوفت ہوئی، لیکن وہ بتدریج قدرے رواداری سے کام لینے لگے، اور کہنے لگے کہ اگر تم اس سے خوش ہو تو ہم بھی تمہاری خوشی میں شریک ہیں۔
 
ایک بار میری بہن نے مجھے امریکہ سے سعودی عرب فون کیا اور یہ اطلاع دی کہ میری والدہ صاحبہ بہت بیمار ہیں، میں اور میری اہلیہ فی الفور امریکہ پہنچے، میں اور میری اہلیہ حسبِ استطاعت ان کی عیادت و خدمت کرتے رہے، وہ میری اہلیہ کی مخلصانہ خدمات سے بہت متاثر ہوئیں۔ ایک دن میں نے والدہ صاحبہ سے پوچھا: کیا آپ کا ایک خدا پر یقین ہے۔ وہ کہنے لگیں: ہاں، تو میں نے ان سے کہا کہ میرے ساتھ مندرجہ ذیل الفاظ عربی میں دہرائیں، یعنی انہیں کلمہ پڑھنے کو کہا، میری والدہ صاحبہ نے اسے میرے ساتھ تین بار دہرایا، پھر میں نے یہ کلمہ انگریزی میں دہرایا یعنی اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی بھی قابلِ عبادت نہیں۔ پھر ایک دن میں نے والدہ صاحبہ سے پوچھا: کیا آپ کا خدا کے پیغمبروں یعنی آدم علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان ہے؟ کہنے لگیں: ہاں، تو میں نے ان سے درخواست کی کہ ایسی صورت میں آپ میرے ساتھ یہ الفاظ عربی میں دہرائیں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، پھر ہم نے یہی کلمہ انگریزی زبان میں دہرایا، مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ انہوں نے یہ کلمہ بھی کم از کم دو بار دہرایا، والحمد للہ!
 
ایک غیر معمولی مشاہدہ
 
ایک دن میری والدہ صاحبہ مجھ سے کہنے لگیں کہ تمہارے ماتھے سے روشنی کی بہت شعاعیں نکل رہی ہیں، میں نے انہیں وضاحت کی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کرنے کے باعث ہے، اور یہی روشنی قیامت کے دن پُل صراط پر ہماری راہنمائی کرے گی۔ میری والدہ صاحبہ کے اس مشاہدہ کا ذکر قرآن پاک کی سورۃ الحدید میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن مومن مردوں اور مومن عورتوں کے سامنے اور دائیں طرف روشنی ٹھاٹھیں مار رہی ہو گی، جو کہ انہیں جنت کی خوشخبری دے رہی ہو گی، وہ جنت جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ واقعی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔
 
میری والدہ صاحبہ اسلام قبول کرنے کے تقریباً پانچ دن بعد اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ میں اللہ تعالیٰ کا بے حد ممنون ہوں جنہوں نے میری والدہ صاحبہ کو ان کے دنیا میں آخری ایام کے دوران ہدایت سے سرفراز فرمایا، اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیئے۔
 
یہاں یہ ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا کہ میری والدہ صاحبہ اپنی زندگی میں دل کھول کر خیرات کرتیں، اور دوسروں کی ضروریات کو ذاتی ضروریات پر ترجیح دیتی تھیں۔ غالباً غربا و بے کسوں کی مدد اور صلہ رحمی ان کے کام آ گئی۔
 
میرے باقی رشتہ دار اپنی طرزِ حیات کو نہیں بدلنا چاہتے اور وہ پرانے انداز میں ہی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہم پھر بھی ایک دوسرے کو مروّت اور احترام سے ملتے ہیں۔
 
اس وقت پروفیسر یحییٰ صاحب سعودی عرب کی ایک معروف یونیورسٹی میں انگریزی کی تعلیم کے لیے مامور ہیں۔ انہوں نے مختلف مذاہب کے موازنے پر ایک بہت اعلیٰ کتابچہ شائع کیا ہے، جس کا نام ہے : The Best Way to Live and Die (یعنی) جینے اور مرنے کا بہترین طریقہ۔
 
یہ کتابچہ وامی WAMY ( World Assembly of Muslim Youth) سعودی عرب سے مفت ملتا ہے، ان کی خواہش ہے کہ ایسی ہی اور کتابیں شائع کریں تاکہ لوگ ان کی سوچ اور تجربہ سے مستفید ہوسکیں۔
 
وہ مدینہ منورہ کے تبلیغی مرکز میں اعزازی طور پر کام کر رہے ہیں تاکہ نئے مسلمانوں کے ایمان کو فروغ دیں، اور ان کے دلوں کو تقویت ایمانی سے سیراب کریں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائیں اور انہیں اجرِ  عظیم عطا فرمائیں، آمین!
 
پروفیسر یحییٰ صاحب کو غیرمسلم لوگوں سے انگریزی زبان میں بات چیت کرنا بہت مرغوب ہے، ان کا ای میل ایڈریس حسب ذیل ہے:
 
dflood58_2000@yahoo.com

No comments:

Post a Comment